6 اپریل 2012 - 19:30

مصر میں صدراتی انتخابات کی سرگرمیاں زوروں پر ہیں۔ مختلف صدارتی امیدواروں کے حامیوں کے درمیان زبانی اور جسمانی چپقلش اور جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔

ابنا: کل قاہرہ کے تحریر اسکوائر پر اس ملک کے سلفیوں کے نامزد صدراتی امیدوار حازم ابو اسماعیل کے حامیوں اور لبرل افکار و نظریات رکھنے والوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ دریں اثناء اخوان المسلمین کے نامزد امیدوار خیرت شاطر کے حامیوں نے کل قاہرہ میں ان کی حمایت میں جلوس نکالا۔

یہ واقعات ایسی حالت میں رونما ہوۓ ہیں کہ جب مصر میں صدارتی انتخابات کے لۓ کاغذات نامزدگی جمع کراونے کی آخری تاریخ آٹھ اپریل قرار دی گئي ہے اور اس ملک کے الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق تین سو سے زائد افراد کاغذات نامزدگی جمع کروا چکے ہیں جن میں خیرت شاطر ، عمرو موسی ، سلیم العواء ، عمر سلیمان اور حازم ابو اسماعیل کے نام زیادہ نمایاں ہیں۔

حالیہ چند دنوں کے دوران مصر میں رونما ہونے والے واقعات میں سے ایک یہ ہے کہ دوہری شہریت رکھنے کی وجہ سے بعض افراد کو صدارتی انتخابات لڑنے کے لۓ نا اہل قرار دے دیا گیا ہے۔ مصر کے الیکشن قوانین کے مطابق صدر کے لۓ یہ شرط ہے کہ وہ دوہری شہریت کا حامل نہ ہو اور اس کی بیوی ، ماں اور باپ بھی مصرکے شہری ہوں۔ اس وقت یہ امکان پایا جاتا ہے کہ سلفیوں کے نامزد کردہ امیدوار ابو اسماعیل کو بھی نا اہل قرار دے دیا جاۓ کیونکہ مصر کے پاسپورٹ آفس نے دوہری شہریت رکھنے والے امیدواروں کی جو فہرست جاری کی ہے اس میں حازم ابو اسماعیل کا نام بھی موجود ہے۔

حازم ابو اسماعیل اخوان المسلمین کی جانب سے نامزد کردہ امید وار کا اصل حریف شمار ہوتا تھا اور اب اس کے نا اہل قرار دیۓ جانے کا مسئلہ سلفیوں اور اخوان المسلمین کے درمیان ایک اہم متازع موضوع کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ان تمام تر باتوں کے باوجود مصر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے سلسلے میں کہ جو تیئیس اور چوبیس مئی کو ہوں گۓ ، ایک اہم بات یہ ہے کہ اس ملک کے شیعہ بھی پہلی مرتبہ اپنا امیدوار کھڑا کرسکتے ہیں۔ اور اس سلسلے میں مصر کے اہل تشیع کی جماعت کے رہنما محمد غنیم نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرواۓ ہیں۔ مصر کے الیکشن قوانین کے مطابق ہر صدارتی امیدوار کے لۓ ضروری ہے کہ وہ یا تو پارلیمنٹ کے تیس اراکین کی تصدیق یا مصر کے تیس صوبوں میں سے پندرہ صوبوں میں ووٹ دینے کی اہلیت رکھنے والوں کی جانب سے اپنی حمایت میں ان کے دستخط حاصل کرے۔

اس سلسلے میں مصر کے ارب پتی تاجر اور اخوان المسلمین کی جانب سے کھڑے کۓ جانے والے امیدوار خیرت شاطر نے اب تک آزادی اور عدل پارٹی سے تعلق رکھنے والے دو سو اناسی ارکین پارلیمنٹ کی حمایت حاصل کرلی ہے۔ دوسری جانب شاطر نے اعلان کیا ہے کہ وہ مصر میں اسلامی شریعت کے نفاذ کے لۓ صدارتی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

بہت سے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ مصر میں اسلامی اقدار کے احیاء اور اس ملک کی پارلیمنٹ میں اسلام پسندوں کو حاصل خاص مقام کے پیش نظر خیرت شاطر کی جانب سے شریعت اسلامیہ کے نفاذ پر تاکید مصرکے عوام کے نزدیک ان کو خاص مقام دلا سکتی ہے خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ مصر کی سابق حکومت کے زمانے میں وہ ایک سیاسی قیدی کے طور پر جیل میں بھی رہ چکے ہیں اس لۓ مصر کے لوگ ان کو ڈکٹیٹر شپ کی مخالف ایک اسلام پسند شخصیت جانتے ہیں ۔ .......

/169